ہمارے ملک پاکستان میں بہت ساری جگہوں پر اس طرح کی صنفی تفریق و علیحدگی ہے کہ، ہمارے ہاں بچپن سے ہی مرد کے ذہن میں یہ بات ڈالنا شروع کردی جاتی ہے کہ وہ اگر عورتوں کے ساتھ بیٹھ گیا یا عورتوں میں چلا گیا تو اس کے ذہن میں صرف اور صرف ان عورتوں کے بارے میں غلاظت ہی آئے گی اور کچھ نہیں۔ اور اسی لیے وہ عورتوں سے دور رہے اور جو عورت مردوں سے دور نہیں بھاگتی وہ جنسی عصمت دری کا شکار ہو جانے کے ہی لائق ہے۔ (اللہ کا خوف کرو!) اور عورت کو بھی بچپن سے یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ اگر وہ مرد کو حیوان سمجھ کر اس سے دور نہیں بھاگے گی تو وہ بے شرم ہے، اور فحاشی جیسا گناۂ کبیرا کر رہی ہے، کیونکہ مرد ایک جنسی حیوان کا ہی نام ہے۔ اس طرح کی باتوں کی وجہ سے ہم لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ مرد و زن اگر ایک ساتھ بیٹھ گئے تو یہ نہایت ہی غیر مناسب فعل ہوگا، اور اس قسم کے معاشرے کے ذہن میں یہ باتیں ایسی اثر انداز ہوتی ہیں کہ وہ اگر سچ میں دوسرے جنس کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ جائیں یا ان سے دور نہ بھاگیں تو ان کے دماغ میں غلیظ خیالات آنا سچ میں شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اور علم س...
وطنِ عزیز پاکستان کے مسائل کے حل پر گفتگو۔