نظرانداز کرکے مرکزی مواد پر جائیں

اشاعتیں

معاشرتی مسائل لیبل والی پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پاکستان میں منفی قسم کی صنفی تفریق اور اس سے پیدا ہونے والے نقصانات

ہمارے ملک پاکستان میں بہت ساری جگہوں پر اس طرح کی صنفی تفریق و علیحدگی ہے کہ، ہمارے ہاں بچپن سے ہی مرد کے ذہن میں یہ بات ڈالنا شروع کردی جاتی ہے کہ وہ اگر عورتوں کے ساتھ بیٹھ گیا یا عورتوں میں چلا گیا تو اس کے ذہن میں صرف اور صرف ان عورتوں کے بارے میں غلاظت ہی آئے گی اور کچھ نہیں۔ اور اسی لیے وہ عورتوں سے دور رہے اور جو عورت مردوں سے دور نہیں بھاگتی وہ جنسی عصمت دری کا شکار ہو جانے کے ہی لائق ہے۔ (اللہ کا خوف کرو!) اور عورت کو بھی بچپن سے یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ اگر وہ مرد کو حیوان سمجھ کر اس سے دور نہیں بھاگے گی تو وہ بے شرم ہے، اور فحاشی جیسا گناۂ کبیرا کر رہی ہے، کیونکہ مرد ایک جنسی حیوان کا ہی نام ہے۔ اس طرح کی باتوں کی وجہ سے ہم لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ مرد و زن اگر ایک ساتھ بیٹھ گئے تو یہ نہایت ہی غیر مناسب فعل ہوگا، اور اس قسم کے معاشرے کے ذہن میں یہ باتیں ایسی اثر انداز ہوتی ہیں کہ وہ اگر سچ میں دوسرے جنس کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ جائیں یا ان سے دور نہ بھاگیں تو ان کے دماغ میں غلیظ خیالات آنا سچ میں شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اور علم س...

پاکستان میں مذہبی اقلیتوں کے خلاف مظالم

 پاکستان میں ان لوگوں سے جو مذہبی معاملات میں اکثریت کی رائے سے اختلاف کریں، اور ان سے جن کا مکتبۂ فکر اکثریت سے مختلف ہو، کو ہمیشہ پاکستان میں نفرت کا اور ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اور یہ ظلم مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلموں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ پاکستان میں وہ لوگ جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں، خصوصاً اہل تشیع اور احمدی (جنھیں پاکستان کی اکثریت قادیانی کہتی ہے مگر احمدیہ مکتبۂ فکر کے لوگوں کو یہ لفظ اپنے لیے اچھا نہیں لگتا) کو نفرت کا نشانہ بنانے میں انتہا کردی جاتی ہے۔ اب یہاں پر میں بھی یہ کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے بھی احمدیوں سے نہایت احترام کے ساتھ ان کے ختم نبوت کو لے کر خیالات پر ان سے اختلاف ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں ان سے پاکستان میں رہنے کا حق چھین لوں یا اس سے بھی بڑھ کر اُنہیں واجب القتل قرار دے دوں۔ ظاہر سی بات ہے کہ اُنہیں بھی ہمیں دلائل اور احترام کے ساتھ اسلام کے اصولوں پر چلتے ہوئے دعوت و تبلیغ دینی چاہیے۔ اور یہی رویہ نہ صرف احمدیوں کے ساتھ بلکہ ہر کسی کے ساتھ کرنا چاہیے۔ اہل تشیع ہوں، اسمعیلی ہوں یا کوئی اور۔ ہماری سب سے بڑی بدقسمتی تو یہ ہے کہ ہم ...