ہمارے ملک پاکستان میں بہت ساری جگہوں پر اس طرح کی صنفی تفریق و علیحدگی ہے کہ، ہمارے ہاں بچپن سے ہی مرد کے ذہن میں یہ بات ڈالنا شروع کردی جاتی ہے کہ وہ اگر عورتوں کے ساتھ بیٹھ گیا یا عورتوں میں چلا گیا تو اس کے ذہن میں صرف اور صرف ان عورتوں کے بارے میں غلاظت ہی آئے گی اور کچھ نہیں۔ اور اسی لیے وہ عورتوں سے دور رہے اور جو عورت مردوں سے دور نہیں بھاگتی وہ جنسی عصمت دری کا شکار ہو جانے کے ہی لائق ہے۔ (اللہ کا خوف کرو!) اور عورت کو بھی بچپن سے یہ بات سکھائی جاتی ہے کہ اگر وہ مرد کو حیوان سمجھ کر اس سے دور نہیں بھاگے گی تو وہ بے شرم ہے، اور فحاشی جیسا گناۂ کبیرا کر رہی ہے، کیونکہ مرد ایک جنسی حیوان کا ہی نام ہے۔ اس طرح کی باتوں کی وجہ سے ہم لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ مرد و زن اگر ایک ساتھ بیٹھ گئے تو یہ نہایت ہی غیر مناسب فعل ہوگا، اور اس قسم کے معاشرے کے ذہن میں یہ باتیں ایسی اثر انداز ہوتی ہیں کہ وہ اگر سچ میں دوسرے جنس کے لوگوں کے ساتھ بیٹھ جائیں یا ان سے دور نہ بھاگیں تو ان کے دماغ میں غلیظ خیالات آنا سچ میں شروع ہو جاتے ہیں۔ اور اس سے بھی زیادہ افسوس ناک اور علم سے ناواقفیت کو نمایاں کردینے والی بات یہ ہے کہ اگر کسی خاتون کو کوئی جنسی عصمت دری کا نشانہ بنا کر اس کی زندگی تباہ کردے تو معاشرے کے لوگ مل کر کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے تھا کیونکہ اس نے فلاں فلاں کپڑے زیبِ تن کیے ہوئے تھے، یا وہ گھر سے محرم کے بغیر باہر نکلی ہوئی تھی۔ اور یہ محرم (یعنی مرد) وہ ہوتا ہے جس کے سامنے اگر بندوق تان دی جائے تو وہ اپنے سارے پیسے لٹیرے کے حوالے کردے گا۔ وہ محرم اس طرح کی صورتِ حال میں کیا کرلے گا؟ ظاہر سی بات ہے کہ یہ قدیم دور کا زمانہ نہیں ہے جب سارا کچھ طاقت اور میدانی مہارت یا چاقو تلوار کا سامنا کرنے کی مہارت پر منحصر تھا۔ اب بندوق آ گئی ہے جو کسی کو بھی بے بس کر سکتی ہے۔ اب یہ بات کہنا کہ ہر کسی کو کام پہ آتے جاتے وقت بندوق اپنے ساتھ رکھنی چاہیے بالکل لغو اور بچکانہ بات ہو گی۔ اور نہ صرف یہ کہ اس طرح کے خیالات کی وجہ سے وکٹم بلیمنگ جنم لیتی ہے بلکہ کم عمری میں یا زبردستی شادیاں، عزت کے نام پر قتل، اور خواتین کو معاشرے کیلیے کچھ کرنے سے روکنے جیسی چیزیں بھی اسی وجہ سے جنم لیتی ہیں۔ جس کا ہر پڑھے لکھے اور باشعور آدمی کو پتہ ہے کہ یہ سب کتنے خطرناک مسائل ہیں۔ اگر ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک دور پر نظر ڈالیں تو صنفی علیحدگی کے معاملے میں رجحانات آج کے دور سے بالکل مختلف تھے، اور اسلام میں مرد و زن کو آپس میں ملتے وقت کن چیزوں کا خیال کھنا چاہیے یہ باتیں بتائی گئیں ہیں۔ اور جو تھوڑی سخت پابندیاں عائد تھیں وہ کچھ وجوہات کی وجہ سے امہاتُ المومینین پر عائد تھیں۔ عام مسلمانوں پر وہ پابندیاں عائد نہیں تھیں۔
ہمیں چاہیے کہ ہم اب ایسے معاشرے کی تشکیل کی طرف توجہ دیں جو مرد و زن کو اتنا ہی الگ رکھے جتنا الگ رکھنا چاہیے۔ یعنی دو مرد و زن کے آپس میں بیٹھنے پر یا عزت سے ایک دوسرے سے مصافحہ کرلینے پر بھی پابندیاں نہ لگائے یا اسے بے حیائی کہنے جیسی باتیں نہ کرے۔ ہاں اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد و زن کے چینجنگ رومز بھی مشترکہ ہوں۔ مگر مرد و زن ایک دوسرے سے اس طرح بھاگیں جیسے وہ دونوں بھوت ہوں، یہ بالکل درست نہیں، نہ ہی یہ ایک علم رکھنے والے معاشرے کی نشانی ہیں۔ اور اس معاملے میں ہمیں مولانا وحید الدین خان صاحب یا مولانا یوسف القرضاوی صاحب جیسے بڑے اور پڑھے لکھے علمائے کرام کی باتوں پر غور کرنا چاہیے جو دین کو درست طریقے سے بتاتے تھے نہ کہ ہمارے مولوی حضرات کی باتوں پر، جو کبھی شراب کو بھی حلال قرار دے دیتے ہیں اگر اس میں الکوہل کی مقدار 40٪ سے کم ہو۔ یہ باتیں ہو سکتا ہے کہ بہت سے لوگوں کو نئی یا فی الحال غیر مناسب لگیں مگر ازراہِ کرم ان پر غور کی جیے گا۔ تاکہ ہمارے ملک پاکستان میں ایک مہذب معاشرا تشکیل پائے اور لوگوں تک دین اسلام کا بھی درست موقف پہنچے۔ یہ ایک بہت ضروری مسئلہ ہے جس کو موضوع بنانا اور اس کے حل پر بات کرنا بہت زیادہ ضروری ہے۔
جزاک اللّہ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں